مجھے اِک نام ایسا دو ( Best Urdu Ghazal)

مجھے اِک نام ایسا دو

پکارو جس سے تم مجھکو

تو یوں محسوس ہو جیسے

تمھاری شاعری ساری میری تعریف ٹھہری ہے

جِسے سُن کر میں خوابوں کی سی کیفیت

میں کھو جاؤں

ہواؤں میں اڑوں جیسے

جِسے سن کر یہ دل کیا روح تک سرشار ہو جائے

جِسے سن کر میری تشنہ لبی سیراب ہو جائے

جِسے سن کر لگے ایسے کہ جیسے بارش پھولوں کی

بدن کی ہر کلی جیسے با انداز ذکر مہکے

جِسے سن کر لگے ایسے

کہ جیسے مدھم سے میٹھے سُروں میں تیرتا

میٹھا مدھر نغمہ

گزرتا وقت کے لمحے جِسے سُن کر ٹھہر جائیں

سماں مدہوش ہو جائے

جِسے سُن کر بہاریں جاتے جاتے پھر سے لوٹ آئیں

مجھے اِک نام ایسا دو

سو اے مہربان لڑکی

میں اکثر سوچتا ہوں کوئی ایسا نام تم کو دوں

کہ جو منسوب ہو تم سے

تو تم کو جاوداں کر دے

ہو کوئی نام ایسا تو

جو مجسمہ حُسن فطرت ہو

بہت ہی خوبصورت ہو

کسی نازک پری جیسا

کہ جو حُسن جہاں رنگ و بو کا استعارہ ہو

تیرے ملکوتی پیکر کو مگر تشبیہ کس سے دوں

اگر میں گُل کہوں تم کو؟

مگر پھول تو مرجھا کے آخر سوکھ جاتے ہیں

اگر تارہ کہوں تم کو؟

ستارے ٹوٹ کر لیکن فضا میں کھو جاتے ہیں

کہوں قوس و قزح لیکن ؟

سبھی رنگ اکٹھے مِل کر بھی

تیری روح سے چھلکتی نور کی کرنوں کو نہ پہنچے

حِنا کا نام دوں تم کو؟

مگر رنگ حِنا تو چار دن میں روٹھ جاتا ہے

اگر بادل کہوں تم کو؟ 

گھٹاؤں سے سوا لیکن تیرے جذبات کی شدت ہے

تمہیں ساون کہوں کیسے؟

تمھارے پیار کی بارش تو ہر موسم برستی ہے

نسیم صبح کہہ دو یا کہوں باد صبا تم کو؟ 

مگر فطرت ہوا کی تو ازل سے بیوفائی ہے

تیری وارفتگی سوچوں, سمندر کی لہر کہہ دوں ؟ 

مگر موجوں کی طغیانی تو اک پونم کی شب تک ہے

تیری آنکھیں اگر سوچوں, تمہیں مے کا بدل کہہ دوں؟

خمار مے تو لیکن رات بھر کی بات ہوتی ہے

اگر سایہ کہوں, جھونکا کہوں, خوشبو کہوں تم کو؟ 

مگر تم تو مجسمہ ہو

بہت کچھ سوچتا ہوں میں

تمھارا نام کیا رکھوں؟

کہوں جادو, چراغ راہ یا منزل کہوں تم کو؟ 

کہوں میں جستجو کوشش کہوں یا دل کہوں تم کو؟

شفق کہہ دوں سحر کہہ دوں یا کہہ دوں چاندنی تم کو؟

اگر خواہش کہوں یا آرزو یا زندگی تم کو؟

اگر ساحر کہوں, نشہ کہوں یا بے خودی تم کو؟ 

ادا کہہ دوں, وفا کہہ دوں, حیاء کہہ دوں اگر تم کو؟

اگر ساحل کہوں, کشتی کہوں یا ناخدا تم کو؟

اگر تقدیر یا انعام یا قسمت کہوں تم کو؟

اگر غنچہ کہوں ,لالہ کہوں, نرگس کہوں تم کو؟

کہوں میں جان یا جاناں یا جان جاں تم کو؟ 

اگر جھرنا کہوں, دریا کہوں, ساگر کہوں تم کو؟

کِرن کہہ دوں, گھٹا کہہ دوں یا پھر رِم جھِم کہوں تم کو؟

اگر جگنو کہوں,شعلہ کہوں, شبنم کہوں تم کو؟ 

اگر شیشہ کہوں, موتی کہوں, ریشم کہوں تم کو؟

یہ سارے نام تیری ذات کے پہلو سہی لیکن…

مگر جچتا نہیں کوئی یہ سارے نام فانی ہیں

تمھارا نام ایسا ہو

جو تم کو جاوداں کر دے

تمھیں پورا بیان کردے

سنو! اے مہربان لڑکی!

بہت ہی سوچ کر میں نے

تمھارا نام رکھا ہے

“محبت”….نام کیسا ہے؟ 

محبت جو کبھی نہیں مرتی !
Shaila’z Hand 

Advertisements
This entry was posted in Ahsas Poetry, aRzo, Sad Ghazals, Xafar Work and tagged , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , . Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s